ابنا: جمعہ کو نام نہاد آزاد شامی فوج (FSA) کے ایک اعلی فوجی کمانڈر بریگیڈیر جنرل سلیم ادریس نے شمالی شام میں اپنے ہیڈکوارٹر سے نیو یارک ٹائمز کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند جنیوا میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ نہیں لیں گے جب تک کہ انہیں اسلحے اور گولہ بارود کی نئی کھیپ فراہم نہیں کرائی جائے گی۔ادریس نے کہا کہ میں بہت واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیں مزید گولہ بارود اور ہتھیار مہیا نہیں کرائے جاتے ہیں تو ہم جنیوا نہیں جائیں گے۔بدھ کے روز، شام میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندے اخضر ابراہیمی نے کہا تھا کہ شام میں جاری بحران کے حل کے لئے بین الاقوامی کانفرنس جولائی میں منعقد ہو سکتی ہے۔ در اصل شام میں بحران کے حل کے لیے جون میں امن مذاکرات کے انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا تھا.جنیوا میں روس، امریکہ اور اقوام متحدہ کے وفود کے ساتھ ابتدائی بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ابراہیمی نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ شام میں مسئلے کے سیاسی حل کے لیے شام کی حکومت اور شام کے باغیوں کے درمیان ایک جامع معاہدہ عمل میں لایا جائے۔غور طلب ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ کسی پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کانفرنس میں شرکت کے لیے آمادہ ہے، شام میں زمینی صورت حال بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران شامی فوج نے اسٹریٹجک سرحدی شہر قصیر، اس کے آس پاس کے کئی دیہات اور علاقے، دبع شہر اور شام اور گولان کی پہاڑیوں کے درمیان واقع قنیطرہ کراسنگ کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔......./169
8 جون 2013 - 19:30
News ID: 427827
شام کی حکومت کے خلاف لڑ رہے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں ہتھیاروں کی نئی کھیپ اور جنگی ساز و سامان موصول نہیں ہو جاتا وہ شام کے بحران کے حل کے موضوع پر آئندہ ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔